فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق میٹا کی جانب سے اے آئی کریکٹرز کو اس خیال سے فیس بک اور انسٹا گرام کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انگیج منٹ بڑھ سکے۔
صارفین یہ اے آئی کردار میٹا کے اے آئی اسٹوڈیو میں جاکر تیار کرسکیں گے تاکہ آپ ان سے اسی طرح رابطہ کرسکیں جیسے حقیقی انسانوں سے ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں کرتے ہیں۔
کونر ہیز کے مطابق اب تک اے آئی اسٹوڈیو کے ذریعے لاکھوں اے آئی کریکٹرز تیار کیے جاچکے ہیں۔
مگر میٹا کا ماننا ہے کہ یہ تو ابھی آغاز ہے کیونکہ اے آئی اسٹوڈیو کو امریکا سے باہر دیگر ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی ترجیح ہے کہ اگلے 2 سال میں اے آئی ٹیکنالوجی کو زیادہ سوشل بنایا جائے۔
فرضی کرداروں کے ساتھ ساتھ اے آئی اسٹوڈیو میں فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کو اپنی ذات کے اے آئی ورژن تیار کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، جس سے ان کے فالوورز بات کرسکتے ہیں۔
ان اے آئی کرداروں سے صارفین کی پرائیویسی کو خطرہ لاحق ہوگا یا نہیں، یہ ابھی کہنا مشکل ہے۔
فنانشنل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے میٹا کی creator innovations ٹیم کی سابق سربراہ بیکی اون نے کہا کہ ٹھوس حفاظتی اقدامات کے بغیر اے آئی اکاؤنٹس سے گمراہ کن مواد پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس سے صارفین کو فائدہ نہ ہو بلکہ یہ اے آئی کریکٹرز صارفین کی ساکھ کو تباہ کردیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'انسانی صارفین کے برعکس اے آئی کرداروں کو زندگی کے تجربات یا جذبات کا علم نہیں ہوتا'۔

