Ticker

6/recent/ticker-posts

مورو تحصیل ضلع نوشہرو فیروز پولیس گردی غریب چوکیدار کو تشدد کر کے شہید کر دیا

موروکےکچےکےعلاقہ درس پولیس تھانہ میں بارہ روزقبل مسکین اورمظلوم چوکیدار عبدالحکیم خاصخیلی کووڈیرےکی جھوٹی شکایت پرپکڑکرکسی مقدمہ کےاندراج کےبغیربھینس چوری کاجرم قبول کروانےکےلئے ذاتی کواٹرمیں لیجاکر وحشیانہ تشددکانشانہ بنایااوررھائ کیلئے1لاکھ روپےبھتہ طلب کیا جسمیں سے 50ھزارروپےکی رقم پولیس نے قتل کےخاندان سے وصول کرکےبھی اسکی جان بخشی نہ کی اور  بھتہ کی پوری رقم کی عدم وصولی اورجرم قبول  کروانےمیں ناکامی پرپولیس نے دھشتگردی کامظاھرہ کرتےھوئے مظلوم مزدورکورائفل کافائرکرکے قتل کردیا اورمقتول کےورثاءکے شدیداحتجاج اورتھانہ کےآگے دھرنا دیکربیٹھنے کےکئ گھنٹےبعدایس ایس پی نوشہروفیروز عمران قریشی کی ذاتی مداخلت اور خودتھانہ درس آکر مقتول کی لاش پرائیویٹ کوارٹر سے برآمد کرواکے مقتول کےورثاءکے حوالےکروائ جسکےبعد         درس تھانہ کےسات اھلکار ں کیخلاف کرائم نمبر46/2018 زیردفعہ 302،342،201اور34ppcکےتحت مقدمہ داخل کروایا جسکےبعد مذکورہ تھانہ کےدواھلکاروں سب انسپکٹر ذوالفقاروگن اورسپاھی لعل بخش سولنگي کی گرفتاری کادعوی کیاھے جبکہ دیگر5ملزمان کی گرفتاری کیلئےپولیس کا جھوٹااور روایتی لفظ چھاپےمارنےکابھی دعوی کیاھے تفصیلات کےمطابق ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل مورو کےتھانہ درس کی حدود میں درس پولیس نے گاؤں بھائ خان خاصخیلی کےمزدورعبدالحکیم ولد عبداللہ خاصخیلی کو ایک وڈیرے
کی بھینس چوری کےمبینہ جھوٹے الزام میں کسی مقدمہ کےاندراج کےبغیرگرفتارکرکےتھانہ درس لایاگیااورجرم قبول کرکے بھنیس واپس کرنےاورپولیس کو1لاکھ روپےبھتہ دینےکامطالبہ کیااوراس کےورثاءکوتھانہ بلاکربھی دونوں شرائط سےآگاہ کیا جسکےبعد مذکورہ مقتول کوپو لیس نےاپنےپرائیویٹ کواٹرمیں منتقل کرکے اس11روزتک پروحشیانہ تشددکیالیکن جرم قبول کروانے اوربھتہ کی مکمل وصولی میں ناکامی پرپولیس نےاسے رائفل کافائرکرکے قتل کردیااورورثاءکو فون پرپیغام بھیجاکہ مقتول عبدالحکیم خاصخیلی نےسپاھی لعل بخش سولنگي
سے رائفل چھین کر خود کشی کرلی ھےاور تھانہ آکراس کی لاش حاصل کرلیں لیکن جب مقتول کےورثاءکی بڑی تعداد جمع ھوکرمقتول کی لاش وصول کرنےتھانہ پہنچےتووھاں لاش موجودنہ تھی باربارپوچھنےپرجب پولیس نےبتانےسےانکارکیاتومقتول کےورثاءمشتعل ھوگئےاورانہوں نےتھانہ آنےجانےکےسارےراستےبند کرکےدھرنادیکرسخت نعرے ازیں شروع کردی اوراپنی برادری کے مزید لوگوں کومددکےلئےطلب کرلیا جسکےبعدسینکڑوں کی تعدادمیں خاصخیلی برادری اورعلاقہ کےلوگ بھی انکی مددکوپہنچ گئے جسکے بعدد پولیس نےصورتحال کوقابو سےباھرھوتادیکھکرمزیدنفری طلب کرلی جبکہ ایس ایس پی نوشہروفیروز عمران قریشی کو بھی پوری صورتحال سےمطلع کیا گیاجوبہت دیربعدجائےوقوعہ پرپہنچےاورمقتول کےورثا کےساتھ مذاکرات کرکےلاش پوسٹمارٹم کے لئےمورواسپتال منتقل کروائ
 اسی اثناء میں تھانہ کےباھربڑی تعداد میں لوگ پولیس کےظلم کیخلاف روڈبندکرکےشدیدنعرےبازی بھی کرتےرھے احتجاج کرنیوالوں میں مقتول کی والدہ ھاجل، بہن رانی، ڈاڑھوں خاصخیلی، ذولفقار خاصخیلی اور عاشق خاصخیلی کےعلاوہ بڑی تعدادمیں خاصخیلی برادری اورعلاقہ کےمشتعل لوگ بھی شامل تھےبعدازاں پوسٹمارٹم کےبعد لاش ورثاء کے حوالہ کردی گئ اس موقع پرایس ایس پی نوشہروفیروز عمران قریشی نےمیرٹ اورانصاف کےاپنے دعووں کی نفی کرتےھوئے ایس ایچ اواور پولیس کے جھوٹ پرمبنی مؤقف کی تائیدکرناشروع کردی اورصحافیوں کوبتایاکہ ملزم کے خلاف بھینس چوری کرنےکی شکایت موصول ھوئ تھی اورپولیس اس سےتفتیش کررھی تھی
 کہ اس نےسپاھی لعل بخش سولنگي سےاسکی رائفل چھین کرخودکشی کرلی جب ایس ایس پی سےصحافیوں نےکسی مقدمہ کےاندر آج کےبغیر تفتیش کرنے اور پرائیویٹ کواٹرمنتقل کرنےکی قانونی صورتحال کےبارےمیں پوچھاتوآئیں بائیں شائیں کرنےلگے اورکوئ تسلی بجش جواب دئیے بغیر روانہ ھوگئے جسکےبعد مورو تھانہ میں SHO تھانہ درس ذوالفقاروگن، اےایس آئ عباس عمرانی،سپاھی لعل بخش سولنگي،ذوالفقار ڈیپر،ھدايت اللہ ڈیپر، رانجھو چانڈیو، گلڑوچانڈیوسمیت 7افرادکیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیاھے جبکہ ایس ایچ او ذوالفقار وگن اورسپاھی لعل بخش خاصخیلی کوگرفتارکرکےلاک آپ کرنیکا بھی دعوی کیاگیاھے آخری اطلاعات کےمطابق مقتول عبدالحکیم خاصخیلی کی لاش اسکے گھر چی تووھاں کہرام مچ گیااورسیکنڑوں کی تعدادمیں مردو خواتین، بچے، بوڑھے دھاڑیں مارمارکرروتے دکھائ دئیے

رپورٹ رانا ندیم سی رپورٹر نشہرو فیروز