کہاں ہے چیف جسٹس آف پاکستان, چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ, آرمی چیف, صدر پاکستان, وزیراعظم پاکستان, وزیراعلیٰ سندھ, آئی جی سندھ, بلاول بھٙو زرداری, نام نہاد این جی اوز اور کہاں ہے ملک کا قانون? ایک بیٹی کے مجبور باپ کا سوال...
کیا سندھ اور سندھیوں کیلئے کوئی قانون نہیں, کسی بڑے صوبے کی بہو بیٹیوں پر اگر بات آئے تو ملک کے قانون نافظ کرنیوالے ادارے اور پورے ملک کی میڈیا حرکت میں آجاتے ہیں, مگر تھر کے غریب اور بے پہنچ مزدور عبدالشکور راھموں کی مدرسے میں پڑھنے والی 15 سالہ بیٹی طیبہ کیساتھ دہشتگرد لسانی تنظیم کے 7 درندوں کیجانب سے اجتناعی زیادتی کرنیوالے قانون کی گرفت سے کیوں دور ہیں? اور کیوں اس زیادتی پرسپریم کورٹ, صدر پاکستان, وزیر اعظم پاکستان, وزیر اعلیٰ سندھ, بلاول بھٹو زرداری, قانون نافظ کرنیوالے ادارے اور میڈیا خاموش کیوں ہیں ? ایک بیٹی کے مجبور باپ کا سوال....
پورے ملک سے زینب میری بیٹی کی آوازیں آئیں مگر اب کیوں نہیں آواز آتی کہ طیبہ میری بیٹی ? ایک بیٹی کے مجبور باپ کا سوال.....
مگر یہاں تو زیادتی کیخلاف آواز اٹھانے اور مقدمہ درج کروانے پر عبدالشکور راھمون اور اسکی زوجہ کو نوکریوں سے برخواست کرنے سمیت 4 بیٹیوں کو اسکول سے نکالا گیا ہے جبکہ مکان مالک نے بھی غیرت کا ثبوت ہوتے ہوئے انہیں گھر خالی کرنے کا نوٹس دیدیا ہے,
چیف جسٹس آف پاکستان خاموش!
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ!
آرمی چیف خاموش!
صدر پاکستان خاموش!
وزیراعظم پاکستان خاموش!
وزیراعلیٰ سندھ خاموش!
آئی جی سندھ!
بلاول بھٙو زرداری خاموش!
نام نہاد این جی اوز خاموش!
ملک کا قانون خاموش!!!!!!!
آخر کیوں ? ایک بیٹی کے مجبور باپ کا سوال......
تفصیل کے مطابق بلدیہ کراچی کے تھانہ سعید آباد کے علاقے میمن محلہ میں 50 سال سے رہائش پذیر تھر واسی مزدور عبدالشکور راھموں کی مدرسے میں عالمہ کا کورس کرنیوالی 15 سالہ بیٹی طیبہ راھموں کو دہشتگرد و لسانی تنظیم ایم کیو ایم (لندن) کے 7 بیغیرتوں مزمل، اسامه، عمر، عامر، طلحه، معروف اور فرقان نے کیری گاڑی میں اغوا کرکہ 100 کوارٹر بلدیہ میں لے جاکر نہ صرف اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس اجتماعی زیادتی کی وڈیو اور تصاویر بھی بنائی اور طیبہ کو دہمکی دی کہ اگر اس نے کسی کے ساتھ ذکر کیا تو اسکی وڈیو اور تصاویر کو سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کردینگے, طیبہ راھموں اس ڈر سے کہ کہیں اسکے والدین کو نہ پتہ چلے وہ خاموش رہے مگر ڈیڑھ ماہ کے بعد اسکے موبائل پر ایس ایم ایس اور مس کال کی بھرمار سے طیبہ کے بہنوئی عاشق راھموں کو شک ہوا اور ان کیجانب سے موبائل چیک کرنے پر سارا معجرہ ظاہر ہوا, طیبہ کے گھر والوں نے خاموش رہنے پر انصاف کے حصول کو ترجیع دی اور سب سے پہلے سی ایم ہائوس کا رخ کیا اور وہاں سے درخواست دینے کے بعد چیف جسٹس آف ہائی کورٹ سندھ, آئی جی سندھ, چیف آف آرمی اسٹاف, کور کمانڈر سندھ کو درخواستیں دیں, جسکے بعد ایس ایچ او سعید آباد نے مجبور ہوکر 18 جنوری کو ایف آر تو درج کرلی مگر بھاری رشوت لیکر گرفتار 5 ملزمان مزمل، اسامه، عمر، عامر اور طلحه کو وی آئی پی سروس دیتے ہوئے دن میں دکھاوے کیلئے تھانے میں جبکہ رات کو اپنے گھر منتقل کیا جاتا ہے, طیبہ کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کے بعد ملزمان کیجانب سے زبردستی صلح کرنے کا دبائو ڈالا جارہا ہے بصورت دیگر مزدور کی دیگر 4 بچیوں کو اغوا کرنے اور اسکے اکلوتے بیٹے کو قتل سمیت سنگین نتائج کی دہمکیاں دی جارہے ہیں, طیبہ کے والد کے مطابق انکوائری افسر اور تھانے کا عملہ مجھے روز چکر کٹوا رہے ہیں اور ملزمان کے رشتیداروں نے میرے محلے میں ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور آئے دن محلے میں آتے جاتے ہوئے سیٹیاں بجا کر میری تذلیل کی جاتی ہے اور مقدمے سے دستبردار ہونے کیلئے مجھے دہمکیاں دی جاتی ہیں, طیبہ کے والدین نے چیف جسٹس آف پاکستان, چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ, آرمی چیف, صدر پاکستان, وزیراعظم پاکستان, وزیراعلیٰ سندھ, آئی جی سندھ, بلاول بھٙو زرداری, این جی اوز سمیت قانون نافظ کرنیوالے اداروں سے انصاف اور تحفظ فرہم کرنے کی اپیل کی ہے اور انصاف کے حصول کیلئے سوشل میڈیا سمیت ملک کے عوام سے ہمدردی اور مدد فراہم کرنے کی امید رکھی ہے.......
کیا زینب کی طرح طیبہ بھی ملک کی بیٹی بن سکے گی? کیا زینب کی طرح سندھ کی بیٹی کو بھی انصاف مل سکے گا ???????
