Ticker

6/recent/ticker-posts

راو انوار پولیس کی وردی میں ایک دہشتگرد رپورٹ ڈاکٹر غلام عباس مھیسر

 رائو انوار جو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ میں ملوث ہے اور انھوں نے چار سئو سے زیادہ مظلوم لوگوں کو جعلی پولیس مقابلے میں دنیاسے الوداع کروانے میں اپنا اھم کردار ادا کیا بلکہ ان مظلوموں کے عزیز و اقارب کو نہ صرف اپنے پیاروں کے داغ مفارقت سے نوازا بلکہ ان پر ایک دھشتگردی کے دھبے سے بھی نواز دیا کہ یہ لوگ دھشتگردوں کے رشتیدار ہیں۔۔۔۔۔
رائو انوار یہ کام کسی سندہ حکومت کی بڑی طاقت کے آشیرواد کے سوا ھرگز نھیں کرسکتا اور وہ آشیرواد باوثوق لوگ کھتے ہیں کہ خود آصف علی زرداری
صاحب کا انھیں حاصل رہا ہے اور اب بھی حاصل ہورہا ہے۔۔۔اور آئیندہ بھی حاصل ھوتا رہے گا کیونکہ رائو انوار آصف علی زرداری کے ملے ہوئے ھر ٹارگیٹ کو گھنٹوں میں نھیں بلکہ منٹوں میں پورا کرتے تھے۔۔۔ یہ آدمی پولیس کی وردی میں ایک بڑا دھشتگرد نکلا ہے۔۔۔جو نقیب اللہ کی شھادت کے بعد ظاھر ہوا ہے اور یہ اتنا طاقتور ہے کہ سندہ کا آء جی پیچھے لگا پہرا ہے لیکن اس کا کوئی اتاپتہ نھیں،نقیب اللہ کا اور کوئی قصور نہیں تہا بس یہ تھا کہ وہ ایک طاقتور آدمی کی بیٹی سے معاشقہ کرنے لگا تھا(اخباری رپورٹس کے مطابق) جو اقتداری مسند نشینوں کے لیئے ناقابل برداشت تھا اور انھیں جعلی مقابلے میں مروا دیا گیا۔۔۔۔۔ اس کے مروانے کے بعد نھایت چالاکی سے اس واقعے کو دفن کردینے کے لیئے رائو انوار نے اپنے اوپر ایک جعلی خودکش حملہ کروایا تاکہ انہیں سستی شھرت< بھی ملے اور نقیب اللہ کا واقعہ بھی لوگ بھول جائیں۔۔۔کھا جاتا ہے کہ ایک آدمی کو پکڑکر ان کے ساتھ خودکش جیکٹ باندہ کر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کروادیا گیا۔۔۔اور یہ مشھور کروایا گیا کہ رائو انوار پر خود کش حملہ کروایا گیا ہے اور وہ بال بال بچے ہیں۔۔

اس واقعے پر مجھے میرٹ ھوٹل اسلام آباد پر ہونے والا حملہ یاد آگیا اور ھاشوانی صاحب کی کتاب کی وہ سطریں بھی آنکھوں کے سامنے آگئی،جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ جب زرداری نیا صدر پاکستان بنا تھا تو ان کی ایماء پر میرے ہوٹل پر خودکش حملہ ہوا اور حملے کے بعد وزیر داخلا رحمان ملک کو میرے پاس بھیج دیا گیا کہ وہ مجھے یہ بات Feed کریں کہ میرا بھلا اس میں ہے کہ میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ بات کہوں کہ یہاں ہوٹل میں صدر آصف زرداری آنے والے تھے اور یہ حملہ طالبان نے آصف زرداری پر کروایا ہے۔۔۔ھاشوانی نے لکہا ہے کہ میں نے رحمان ملک سے پوچھا کہ میں ایسا کیوں کہوں؟؟؟جب کہ نہ یہ حملا طالبان نے کروایا ہے اور نہ ھوٹل میں آنے کا زرداری کا کوئی پروگرام تھا تو اس پر رحمان نے کہا کہ اس میں ہمارے صدر کی باھر کی دنیا میں پذیرائی اور مقبولیت ہوگی۔۔۔۔
رائو انوار بھت سارے معاملات میں عزیر بلوچ کے ساجھہ دار رہے ہیں۔۔۔بلاول ھائوس کی توسیع میں آس پاس کے گھروں کو دھمکی دھمان دے کر چند کوڑوں پر فروخت کروانے میں بھی ان لوگوں کا بڑا ھاتھ تھا۔۔۔۔۔۔ ملیر میں ٹارچر سیلس بناکر پی پی پی مخالفوں کو گرفتار کرکے انھیں ٹارچر کروا کر ان لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کروانے میں بھی باخبر ذرائع کھتے ہیں کہ رائو انوار کا بڑا ھاتھ رھا ہے اور خاص طور پر ٹھٹھے،بدین اور تھرپارکر کے عوامی طاقت کے حامل لوگوں کو پی پی پی کی طرف مڑوانے میں رائو انوار کا ایک کلیدی کردار ہے۔۔۔۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کل رائو انوار کے سوموٹو نوٹیس والے کیس کی شنوائی کی اور آء جی پولیس کو نھایت غور سے سنا اور انھیں شابس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا کام صحیح رخ میں سرانجام دے رہے ہیں اور آگے بھی بغیر خوف و خطر دیتے رہیں اور کسی کے دبائو میں نہ آئیں۔۔۔
 ایسے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس صاحب نے احکامات جاری کیئے کہ رائو انوار کو تین دنوں کے اندر برآمد کردیا جائے۔۔۔۔یاد رہے کہ اء جی پولیس نے شخصی طور پر چیف جسٹس صاحب کو بتادیا ہے کہ رائو انوار اور کہیں بھی نہیں چہپا بلکہ وہ بلاول ھائوس میں آصف علی زرداری کے احکامات پر چھپا دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اب جب پاکستان کا سابق صدر اور سندہ کی ایک اھم پارٹی کا سربراہ ایسی حرکات کرے تو آپ بتائیں کہ باقی سارے صوبے کے حالات کیا ہونگے۔۔۔پہر ھزارہا نقیب۔۔۔ھزارھا قابل اور مختیار جیسے آدمی انصاف نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑتے رہیں گے۔۔۔۔نقیب اور زینب کی طرح قابل،کرم اللہ اور مختیار احمد چانڈیہ جیسے کیسز بھی بھت اھم ہیں جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب!!!!!!!!!